کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن
کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن
ہیں مدتوں سے کہیں لاپتہ کمال کے دن
جسے عروج پہ جا کر مشقتوں سے ملا
وہ شخص مجھ سے کہیں کھو گیا زوال کے دن
یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن
یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کام آ نہ سکی
جواب دے نہ سکا میں کسی سوال کے دن
تصورات کی راتوں میں سوگ برپا ہے
کہیں پہ قتل ہوئے ہیں مرے خیال کے دن
یہ جانتا ہوں کہ ممکن نہیں وہ لوٹ سکے
گزارتا ہوں مگر زین احتمال کے دن
زین شکیل