موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
میں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے
توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کی
میں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے
رحمتیں اس کی تباہیٔ وفا پر جس نے
مرتے مرتے ترے دامن کی ہوا مانگی ہے
میں نے کچھ اور نہیں چاہا خدائے غم سے
بس ترے حسن کی ہر ایک بلا مانگی ہے
اپنے سر آپ نہ لیں دل شکنی کا الزام
میں نے خود اپنی تباہی کی دعا مانگی ہے
ہائے کیا چیز ہے ساحرؔ یہ مرا حسن طلب
میں نے ہر چیز زمانے سے جدا مانگی ہے
ساحر بھوپالی