search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
یادرفتگان
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
(12 فروری 2026)
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں
(12 فروری 2026)
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
(11 فروری 2026)
دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا
(11 فروری 2026)
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
(10 فروری 2026)
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
(10 فروری 2026)
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
(10 فروری 2026)
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
(08 فروری 2026)
ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے
(08 فروری 2026)
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
(05 فروری 2026)
سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
(05 فروری 2026)
اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا
(04 فروری 2026)
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
(04 فروری 2026)
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
(02 فروری 2026)
ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں
(02 فروری 2026)
نہ میڈے یاریں،نہ میڈے سکے بھرا کوں پتئے میں کیوں اداس آں
(30 جنوری 2026)
یگانگت
(29 جنوری 2026)
دور کنارا
(29 جنوری 2026)
اعتماد
(27 جنوری 2026)
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
(26 جنوری 2026)
ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے
(26 جنوری 2026)
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
(24 جنوری 2026)
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
(24 جنوری 2026)
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
(23 جنوری 2026)
صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
(23 جنوری 2026)
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
(21 جنوری 2026)
ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
(21 جنوری 2026)
ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا
(18 جنوری 2026)
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
(12 جنوری 2026)
آج پھر شاخ سے گرے پتے
(12 جنوری 2026)
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
(11 جنوری 2026)
یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا
(11 جنوری 2026)
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
(06 جنوری 2026)
تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
(06 جنوری 2026)
ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
(05 جنوری 2026)
تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر
(05 جنوری 2026)
غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا
(02 جنوری 2026)
تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے
(30 دسمبر 2025)
کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
(29 دسمبر 2025)
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
(28 دسمبر 2025)
سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
(28 دسمبر 2025)
اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی
(28 دسمبر 2025)
منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں
(18 دسمبر 2025)
اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں
(16 دسمبر 2025)
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
(15 دسمبر 2025)
کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
(12 دسمبر 2025)
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
(11 دسمبر 2025)
محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک
(07 دسمبر 2025)
درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
(06 دسمبر 2025)
اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
(06 دسمبر 2025)
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
(04 دسمبر 2025)