پیش کردہ کلام
- 01 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں
- 02 نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں
- 03 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
- 04 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں
- 05 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
- 06 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا
- 07 نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
- 08 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
- 09 تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
- 10 دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
- 11 ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے
- 12 اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
- 13 سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
- 14 اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا
- 15 دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
- 16 دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
- 17 ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں
- 18 نہ میڈے یاریں،نہ میڈے سکے بھرا کوں پتئے میں کیوں اداس آں
- 19 یگانگت
- 20 دور کنارا
- 21 اعتماد
- 22 موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
- 23 ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے
- 24 اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
- 25 دل سے ہر گزری بات گزری ہے
- 26 اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
- 27 صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
- 28 حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
- 29 ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
- 30 ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا
- 31 دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
- 32 آج پھر شاخ سے گرے پتے
- 33 حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
- 34 یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا
- 35 آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
- 36 تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
- 37 ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا
- 38 تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر
- 39 غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا
- 40 تم سے بھی بات چیت ہو دل سے بھی گفتگو رہے
- 41 کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
- 42 تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
- 43 سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
- 44 اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی
- 45 منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں
- 46 اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں
- 47 جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
- 48 کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
- 49 ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
- 50 محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک
- 51 درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
- 52 اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
- 53 آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے