زبیر قلزم

زبیر قلزم

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو

خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو نیند سے ہی ڈرا گیا مجھ کو ساتھ راتیں گزارنے والا دن میں تارے دکھا گیا مجھ کو میں سمجھ دار لڑکا کنبے کا کیسے پاگل بنا گیا مجھ کو یہ جوانی مری کہاں ہے ڈھلی یہ تو بس ہجر کھا گیا مجھ کو آئینہ تک ہنسا ہے مجھ پہ آج وہ تماشہ بنا گیا مجھ کو آپ رکھ لیں یہ زندگی باقی کوئی زندہ جلا گیا مجھ کو پھر تماشہ تمہارا بھی ہو گا جب کبھی صبر آ گیا مجھ کو رات بھی ساتھ بیٹھی ہے میرے وہ جہاں پر بٹھا گیا مجھ کو

شاعر: زبیر قلزم — پیشکش: زبیر قلزم

‹ کلام کی فہرست پر واپس