ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے

اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے نمیدہ پلکوں سے تیری یادوں کے پَل سنورتے تو سبز ہوتے خزاں تو موقع پرست ٹھہری سو خُشک پتے بچھا رہی ہے بہار جیسے وہ یار رستوں پہ پاٶں دھرتے تو سبز ہوتے قدیم رستوں کے زرد پتے بھی خوش کلامی کے منتظر ہیں کہ آتے جاتے تم ان درختوں سے بات کرتے تو سبز ہوتے جو سبز ہوتے ہمارے ساۓ سے چھاٶں ملتی مسافروں کو بُریدہ شاخوں کو چھُو کے ہاتھوں سے تم گزرتے تو سبز ہوتے تری محبت کے پریم جل تک رساٸی ممکن نہیں تھی ورنہ ہمارے جیسے نمود پاکر شجر سےجھڑتے تو سبز ہوتے

شاعر: عاطف جاوید عاطف — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس