دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہوا
دفن اس طرح مرے دل کے مقبرے میں ہوا کہ خوابِ عمر فنا یاد کے حجرے میں ہوا وہ ایک لمسِ طلب، وہ نگاہِ نیم نگاہ تمام حاصلِ ہستی اسی لمحے میں ہوا ہم اپنے زخم چھپاتے رہے نگاہوں سے ہر ایک درد مگر ضبط کے پہرے میں ہوا وہ حرف جو لبِ خاموش پر ہی مر گیا تھا وہی بیان مرے دل کے کٹہرے میں ہوا نہ شورِ گریہ، نہ فریادِ آشکار ہوئی یہ حوصلہ بھی فقط صبر کے چہرے میں ہوا یہ دل جو مانگتا رہا کسی کی ایک نظر اسی سوال کا انجام اشارے میں ہوا نہ سنگِ لوح پہ نام و نشاں ملا آخر ہمارا ذکر فقط خاک کے نظارے میں ہوا قمرؔ! جو کہہ نہ سکے ہم، وہی کہا ہم نے یہ شعر بھی فقط اشکوں کے کنارے میں ہوا
‹ کلام کی فہرست پر واپس