دل جو شائستۂ جفا نہ ہوا
دل جو شائستۂ جفا نہ ہوا لذت غم سے آشنا نہ ہوا تو کبھی پاس سے جدا نہ ہوا دل مگر صورت آشنا نہ ہوا زندگی کا مزہ وہ کیا جانے جس کو مرنے کا حوصلہ نہ ہوا ہم کو شکوہ رہا جدائی کا اور تو پاس سے جدا نہ ہوا تم سے کہنے سے فائدہ کوئی خیر جو کچھ ہوا برا نہ ہوا سوچتے ہی رہے کہیں نہ کہیں نہ ہوا عرض مدعا نہ ہوا یاد کرتے ہیں حسن و عشق ہمیں مر کے بھی ختم سلسلہ نہ ہوا دام الفت میں جو پھنسا ناشادؔ ہو کے آزاد بھی رہا نہ ہوا
‹ کلام کی فہرست پر واپس