ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے
صبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے
خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گا
دھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے
آئینہ چٹخنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یوں سوال کرتے ہو گونگی بہری ماؤں سے
سامنے پڑی تھی اور ہاتھ تک لگایا نئیں
ہم نے اک طرف کر دی دنیا اپنے پاؤں سے
جسم شہر آیا تھا جسم شہر رہتا ہے
دل کو لاکھ سمجھایا دل نہ آیا گاؤں سے
آپ نے دیے تھے جو زخم کافی گہرے تھے
اب وہ خاصے بہتر ہیں آپ کی دعاؤں سے
خالی کا سے مت پھینکو، آؤ اب کے گلیوں میں
دل روانہ کرتے ہیں باندھ کر صداؤں سے

راکب مختار