ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں
ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں جُرم قانوُن کرے، اور سزا میں کاٹُوں دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لے جائے ! تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَم بول! سر ظُلم کا ، تُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں اب تو بندے بھی، خُدا بندوں کی تقدِیر لکھیں دے وہ طاقت مجھے، اُن سب کا لِکھا میں کاٹُوں پاؤں ہوتے ہوئے ، کب تک چلوں بیساکھیوں پر کب تلک، دوسروں کا بویا ہُوا ، میں کاٹُوں کُھلے ماحول پہ وہ حَبس کو معموُر کرے سانس کی دھار سے زنجیرِ ہَوا، میں کاٹُوں چھاؤں تو ، اُس کو مظفؔر نہیں اچھّی لگتی ! کہتا مجھ سے ہے کہ، یہ پیڑ گھنا میں کاٹُوں
‹ کلام کی فہرست پر واپس