ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں
جُرم قانوُن کرے، اور سزا میں کاٹُوں
دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لے جائے !
تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں
تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَم
بول! سر ظُلم کا ، تُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں
اب تو بندے بھی، خُدا بندوں کی تقدِیر لکھیں
دے وہ طاقت مجھے، اُن سب کا لِکھا میں کاٹُوں
پاؤں ہوتے ہوئے ، کب تک چلوں بیساکھیوں پر
کب تلک، دوسروں کا بویا ہُوا ، میں کاٹُوں
کُھلے ماحول پہ وہ حَبس کو معموُر کرے
سانس کی دھار سے زنجیرِ ہَوا، میں کاٹُوں
چھاؤں تو ، اُس کو مظفؔر نہیں اچھّی لگتی !
کہتا مجھ سے ہے کہ، یہ پیڑ گھنا میں کاٹُوں

مظفر وارثی