ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے
ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے
جو تری صِفَت کے خلاف تھے، وہی لفظ بولنے پڑ گئے
میں کہوں حیات ہے مختصر، وہ مری وفات کے منتظر
انہیں پھر یقین نہیں ہوا، انہیں عہد توڑنے پڑ گئے
میں جرید باطنِ حُزن میں جو گیا پلٹ کے نہ آ سکا
میں نہیں رہا ہوں تو اب تجھے، مرے درد بانٹنے پڑ گئے
تُو رہینِ لہجہِ عشق تھا، تجھے کیسے تُرش دُعا لگی
یونہی گفتگو میں نجانے کیوں تجھے زہر گھولنے پڑ گئے
تری کَج کلاہی ہری رہے، تری دیوتائی کی خیر ہو
ہمیں جتنے تیرے فُیُوض تھے، تجھے عین موڑنے پڑ گئے
وہ سرودِ دل کا طلسم تھا، کہ تجھی کو حرف نہیں ملے؟
تُو تَو وجد میں بھی رہا ہے چُپ، تجھے شبد سوچنے پڑ گئے
جو امیدِ درمنِ وقت تھی، وہ تو نذرِ سانحہ ہو گئی
کبھی ہجر پا کے سَفَل ہوئے، کبھی وصل کاٹنے پڑ گئے
ذرا اشتہائے وصال سُن، ترے سکھ کا خانہ خراب ہو
ترا ہاتھ تھامنے والڑوں کو سلوک جھیلنے پڑ گئے
وہ جو مجھ سے کہتا تھا زین جی، تمہیں کب سے پروا ہے دہر کی
ذرا اس کے سر پہ پڑی تو پھر، اسے لوگ دیکھنے پڑ گئے
زین شکیل