جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات
جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات
مجھ کو لے جائے گی آکر وہ پری رات کی رات
آج کی رات نصیبوں سے ملی ہے ہم کو
آج کی رات ہے روحوں سے ملاقات کی رات
میرے کشکول میں دن ڈوبا محبت بھرا دن
میرے کشکول سے ابھری نہیں خیرات کی رات
ہچکچاہٹ نہ جھجھک ہے نہ پریشانی ہے
کیا عجب رات ہے بے ساختہ جذبات کی رات
اس میں کیوں ہجر کے دن یاد کیے جائیں گے
وصل کی رات نہیں ہوتی خرافات کی رات
ہم جواباً کوئی تاویل بھی دے سکتے نہیں
ہم پہ اتری ہے عجب طور سوالات کی رات
پڑھ لو تحریر ہے جو لوح ازل پر آزرؔ
لوٹ کر آتی نہیں کشف و کرامات کی رات
دلاور علی آزر