کلام کر
کلام کر ! حسین شخص ! دیکھ ! آسماں کے کان بھی لٹک گئے ! سماعتیں تری صدائے سبز کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں دیر سے ! کلام کر ! اے مہ جبین شخص ! مجھ سے آج میرے گھر کی کھڑکیاں، دیوار و در یہ کہہ رہے ہیں ! کوئی رمزِ ہجر آشکار کر نہیں رہا ! چلو ہزار بار نا سہی تو ایک بار کر نہیں رہا ! کلام تیرا یار کر نہیں رہا ! کلام کر ! اے شہرِ قلب کے مکین شخص ! تُو تو جانتا نہیں کہ تو نے اضطراب کا سکون کس قدر تباہ کر دیا ! سکوت کا جو حبس ہے ! اسی کو بے پناہ کر دیا ! سفید گفتگو کا رنگ بھی سیاہ کر دیا ! کلام کر ! ذہین شخص ! تُو نے ہی کبھی مجھے کہا تھا ! 'پُر یقین شخص' دیکھ ! تیری چپ مرا یقین کھا گئی ! یہی تو میرا آسماں ! مری زمین کھا گئی ! یہ میں / یہ میرا سب تو اک طرف ! تری یہ چُپ تمام سامعین کھا گئی ! کلام کر ! اے بہتروں میں بہترین شخص ! دیکھ ! میرا ضبط اب ہوا کی بد زبانیوں سے ٹوٹ جائے گا ! کوئی بھی سنگ اب مری صدا کے راستے میں آ گیا تو ٹوٹ جائے ! سماعتوں کے پاؤں میں جو آبلہ ہے پھوٹ جائے گا ! یہ بد عقیدہ ! بے ایمان ! بد چلن ہوا بھی مجھ سے کہہ رہی ہے ! اب مدھر صدا کی خوشبوئیں فضا میں گھولتا نہیں ! سُروں کو ٹولتا نہیں ! جنوں کا بھید کھولتا نہیں ! سماعتیں بہت اداس ہو گئی ہیں زین ! تیرا یار بولتا نہیں ؟ کلام کر ! کہ اب تمام بد زباں صداؤں کو زوال ہو ! سماعتیں جو تیرے واسطے ترس گئی ہیں ! ان کا دور اب ملال ہو ! جو ہو نہیں رہا ہے ! 'وہ' کمال ہو ! کلام کر ! کہ اب تمام بے قراریوں کی خیر ہو ! تمام ساعتوں کی آہ و زاریوں کی خیر ہو ! سماعتوں کی انتظاریوں کی خیر ہو ! تری صدا کی پردہ داریوں کی خیر ہو !
‹ کلام کی فہرست پر واپس