ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
شہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں
تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھا
صلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں
دھوکہ دیتی ہے یہ محراب کی کالک اکثر
لوگ کردار سے کھلتے ہیں جبینوں سے نہیں
ان کی قسمت جنہیں دریا سے محبت تھی بہت
کوئی شکوہ مجھے غرقاب سفینوں سے نہیں
مجھ سے اک پل کی بھی غفلت نہ برتنے والے
رابطہ خود سے مرا کتنے مہینوں سے نہیں
بادشاہا تجھے آئینہ دغا دیتا ہے
تاج انصاف سے سجتا ہے نگینوں سے نہیں
صرف اک قبرٍ مقرر کے علاوہ راکب
کوئی لالچ مجھے پرکھوں کی زمینوں سے نہیں

راکب مختار