ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی

لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی قرض تھی یادِ رفتگاں، رات حساب لے گئی​ ​جامِ سفال پر مری کتنی گرفت تھی مگر آب و ہوا ئے روز و شب، خانہ خراب، لے گئی​ ​صحبتِ ہجر میں گھری جُنبشِ چشمِ سُرمگیں خُود ہی سوال کر گئی ،خُود ہی جواب لے گئی​ ​تِشنہ خرامِ عشق پر ابَر کے سائے تھے مگر عرصۂ بےگیاہ تک چشمکِ آب لے گئی​ ​کارِ جہاں سے رُوٹھ کر پھر تری یاد کی ہوس شاخِ نہالِ زخم سے بُوئے گُلاب لے گئی​ ​پہلے ہوا کے زِیرو بم ہم کو قریب کر گئے پھر ہمیں ساحلوں سے دُور، یورشِ آب لے گئی​ ​موجۂ وقت سے نڈھال ڈُوب رہے ہیں خدّو خال ساعتِ حیلہ جُو سلیم عہدِ شباب لے گئی​

شاعر: سلیم کوثر — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس