میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا
میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا اسے بھی توڑنے کو اک کھلونا چاہئیے تھا کہاں یہ کونے کونے میں لیے پھرتی ہے گردش مجھے تو بیٹھنے کو اک کونا چاہئیے تھا کہاں ہیں وہ مرے احباب آخر سب کہاں ہیں انہیں مشکل میں میرے ساتھ ہونا چاہئے تھا میں جان کیوں وارنے میں اس قدر پیچھے رہا تھا محبت میں میرا بھی نام ہونا چاہیئے تھا یہ ممکن ہے وہ جانے کا ارادہ چھوڑ دیتا مجھے اس سے لپٹ کر ایسے رونا چاہیے تھا وہ آتا یا نہ آتا خواب میں وعدے مطابق مجھے لیکن شمار اس رات سونا چاہیے تھا
‹ کلام کی فہرست پر واپس