ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا

میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا وہ کم سُخن، سُخن آرائیوں کے بعد کُھلا​ ​وہ میرے ساتھ ہے اور مجھ سے ہمکلام بھی ہے یہ ایک عُمر کی تنہائیوں کے بعد کُھلا​ ​میں خُود بھی تیرے اندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا ترا وجود بھی پرچھائیوں کے بعد کُھلا​ ​عجب طلسمِ خموشی تھا گھر کا سناٹا جو بام و دَر کی شناسائیوں کے بعد کُھلا​ ​میں آب و خاک سے مانُوس تھا، پر کیا کرتا دَرِ قفس مری بینائیوں کے بعد کُھلا​ ​مجھے یہ جنگ بہرحال جیتنی تھی، مگر نیا محاذ ہی پسپائیوں کے بعد کُھلا​ ​مجھے بھی تنگئ آفاق کا گِلہ ہے سلیم یہ بھید مجھ پہ بھی گہرائیوں کے بعد کُھلا​

شاعر: سلیم کوثر — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس