ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے
ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے
میں نے بھی مل کے منہ پہ کہا دکھ ہوا مجھے
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے
لیکن وہ خوش ہوا تو بڑا دکھ ہوا مجھے
سسی کی داستان سنی تھی گذشتہ شب
میرے بلوچ دوست ادا دکھ ہوا مجھے
اس کے دئے دکھوں پہ الگ غم زدہ تھا میں
اور انتقام لے کے جدا دکھ ہوا مجھے
ہر تازہ دکھ پہ دوست کا پرسہ گھسا پٹا
بس یار جو خدا کی رضا دکھ ہوا مجھے
چہرہ تأثرات سے عاری ہے اس کو چھوڑ
میرا یقین کر بہ خدا دکھ ہوا مجھے
تب منکشف ہوا کہ مجھے اس سے عشق ہے
جب اس کے دکھ پہ اس سے سوا دکھ ہوا مجھے
عمیر نجمی