مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے
مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے
عشق میں ع گرانے کی اجازت نہیں ہے
خال و خد اس کے جھلکتے ہیں مرے چہرے سے
جس کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے
گویا خوشبو سے گریزاں ہیں ترے شہر کے لوگ
یعنی لوبان جلانے کی اجازت نہیں ہے
کیا میں تجھ وصل کو تشہیر نہیں کر سکتا
کیا مجھے خواب سنانے کی اجازت نہیں ہے
شوق ہے مجھ کو بہت خاک اڑانے کا یہاں
کیا کروں خاک اڑانے کی اجازت نہیں ہے
بے سبب شور سماعت پہ گراں گزرے گا
آسماں سر پہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے
وقت اثر رکھتا ہے مرہم سے زیادا آزرؔ
وقت سے زخم چھپانے کی اجازت نہیں ہے
دلاور علی آزر