میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے
میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے
کاغذ پے رنگ بکھیر کے تصویر کر مُجھے
بھر دے میرے وجُود میں پڑتی ہوئی دراڑ
آکر نئے سِرے سے ہی تعمیر کر مُجھے
پھر راہگزارِ نیند میں آنکھیں بِچھا کبھی
پھر سے حسین خواب کی تعبیر کر مُجھے
رکھ کر خیالِ یار کی تحویل میں سدا
تا عُمر اُسکی یاد کی زنجیر کر مُجھے
اپنے سبھی غموں کا مداوا بنا مُجھے
مرہم لگا کے زخم پے تاثیر کر مُجھے
میں آشکارِ اُلجھنِ حیات بھی تو ہوں
کُچھ درد مُجھ سے بانٹ کے تدبیر کر مُجھے
تُو شہنشاہِ سلطنتِ حُسن ہی سہی
آ جیت لے یہ دل میرا جاگیر کر مُجھے
اس کاروانِ زیست میں مجھکو تیاگ دے
پھر اِک نئے جہان میں تسخیر کر مُجھے
سائرہ راحیل خان
نا معلوم