ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

میں ڈرتا ہوں مسرت سے

میں ڈرتا ہوں مسرت سے
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں، کائناتی نغمہ ء مبہم میں الجھا دے
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
مری ہستی ہے اک ذرہ
کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے مہرِ عالم تاب کا نشہ
ستاروں کا علمبردار کر دے گی ،مسرت میری ہستی کو
اگر پھر سے اسی بلندی سے ملا دے گی
تو میں ڈرتا ہوں۔۔۔۔ڈرتا ہوں
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
بھلا کر تلخیاں ساری
بنا دے دیوتاؤں سا
تو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا
زمانہ اپنی ہستی کا

میراجی