قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی
قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی
ہوس ہو جی میں جو دیر و حرم کے جانے کی
طریق اپنے پہ اک دور جام چلتا ہے
وگرنہ جو ہے سو گردش میں ہے زمانے کی
کیا جگر کو مرے داغ تیرے وعدوں نے
خبر سنی جو کہیں میں کسو کے آنے کی
نظر نہ کیجیو تو میرے دل کے خطروں پر
نہ جی میں لائیو کچھ بات کیا دوانے کی
جفا و جور اٹھانے پڑے زمانے کے
ہوس تھی جی میں کسو ناز کے اٹھانے کی
طریق ذکر تو ہے دردؔ یاد عالم کو
ترا بتائے کچھ اپنے تئیں بھلانے کی
خواجہ میر درد