ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

‏شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے ‏جہاں چراغ جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے ‏کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکی ‏اگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے ‏خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئے ‏اگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے ‏وہ خشک لب جو تھرکتے تو مختلف پانی ‏سمندروں سے بھی دریاوں میں پلٹ جاتے ‏خدا بدن نہیں رکھتا ورنہ یہ عاصی ‏جہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتے ‏تڑپ تڑپ کے بگاڑی ہے ہم نے لاش اپنی ‏تو کاٹتا تو بڑی عمدگی سے کٹ جاتے

شاعر: راکب مختار — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس