ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

شہناز

جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کے
ایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی
میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر
جس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی
تُونے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا
ساز میں بھی نہ تھی وہ بات ، صبا میں بھی نہ تھی
اور اب یوں ہے کہ جیسے کبھی رسم ِ اخلاص
مہہ نشینوں میں تو کیا ، ہم فقرا میں بھی نہ تھی
بےوفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش
دلِ پُرخون میں بھی اور رنگِ حنا میں بھی نہ تھی
نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کے
جس طرح ترکِ تعلُّق پہ ہے اصرار اب کے

مصطفی زیدی