ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے

سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے
زباں خموش ہے لیکن کلام جاری ہے
بہت سجی ہوئی گلیوں پہ اتنی حیرت کیوں
ہمارا قتل ہے اور اہتمام جاری ہے
ابھی تلک یونہی سہنے پہ میں لگا ہوا ہوں
ترا سلوک وہی بے لگام، جاری ہے
حضور آپ تو مہمانِ خاص ہیں دل کے
ابھی نہ آئیں ابھی انتظام جاری ہے
یہ عشق دفن ہوا پھر بھی مر نہیں پایا
چمک رہی ہے لحد اور سلام جاری ہے
ابھی تو زخم بھی پورے گنے نہیں گئے ہیں
ابھی تو دل پہ بہت دن سے کام جاری ہے
اک ایک کر کے مرے خواب مارے جاتے ہیں
تمہارے بعد تو بس قتلِ عام جاری ہے
یہ خواب دیتے ہیں ہم کو سزا محبت کی
عجب سا زین کوئی انتقام جاری ہے

زین شکیل