ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو منزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مرا جیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو شب زادگاں! تم اہل خبر سے نہیں سو تم! اپنا مدار اپنا مدینہ جدا کرو یاں پے بہ پے جو خواب کھلے نے بہ نے کھلے جتنا جدا یہ ہو سکے اتنا جدا کرو میں تھا کہ اپنے آپ میں خالی سا ہو گیا اس نے تو کہہ دیا مرا حصہ جدا کرو

شاعر: شاہین عباس — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس