ایمان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے
اب تو آ جا کہ تجھے یاد کیا ہے میں نے
آسکی تیری جدائی نہ کبھی راس مجھے
تجھ سے بچھڑا تو یہ ہونے لگا احساس مجھے
اپنے ہاتھوں سے کوئی زہر پیا ہے میں نے
گنگناتی ہے وفا روح میں رم جھم کی طرح
سامنے اپنے کھڑا ہوں کسی مجرم کی طرح
آج تو شرم سے ڈھانپ لیا ہے میں نے
جو بھی شکوہ ہے بھلانا ہی پڑے گا تجھکو
اک نہ اک روز تو آنا ہی پڑے کا تجھکو
دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے میں نے

قتیل شفائی