ایمان

ایمان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا

ہر اِک رہ رو، ہر اِک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا​ اَنا کے نام پر ہر شخص کو تسخِیر کیا کرنا​ ​خبر اُس گھر کی بھی لینی ہے، جس کی چھت شکستہ ہے​ فقط خوابوں میں اِک قصرِ حسیں تعمیر کیا کرنا​ ​بہت کافی ہے، سُن لیتی ہیں دیواریں مرے دُکھڑے​ سُنا کر حالِ دل ہر شخص کو دِلگیر کیا کرنا​ ​ہمیشہ جس کو عزت دی، سر آنکھوں پر بٹھایا ہے​ ذرا سی بات پر اب اُس کو بےتوقیر کیا کرنا​ ​اِسی کٹیا میں رہنا ہے، ابھی کُھل جائیں گی آنکھیں​ تو پھر لے کر تمہارے خواب کی جاگیر کیا کرنا​ ​وہی رکھنی ہے آشفتہ سَری جو اُن کی قسمت تھی​ وفا میں کام کوئی بھی خلافِ میر کیا کرنا​

شاعر: اعتبارساجد — پیشکش: ایمان

‹ کلام کی فہرست پر واپس