ایمان
وقت چلتا ہی رہا کرتا ہے
رُکتا تو نہیں
لوگ ملتے ہیں
بچھڑ جاتے ہیں
پھر ملتے ہیں
راستے ہاتھ نہیں آتے کبھی
اور کبھی پیروں سے آآ کے لپٹ جاتے ہیں
یونہی اک آس سی رہتی ہے ہمیں
ممکن ہے
انہی رستوں پہ اچانک یونہی چلتے چلتے
کل نہیں تو آج، نہیں آج تو کل
دل کی دھرتی پہ کسی روز کھلو گے تم بھی
دل یہ کہتا ہے کہ اک روز ملو گے تم بھی
وصی شاہ