نور مائیر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے
یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر
تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے
تعلق کو نہ سمجھو جاودانی
یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے
ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے
پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے

کشور ناہید