نور مائیر

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی

نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
نہ جانے اس گھڑی کس کس کی بگڑی بن گئی ہوگی
وہ عالم کون سا ہوگا وہ دنیا کون سی ہوگی
جہاں حد نظر تک زندگی ہی زندگی ہوگی
اسی صورت سے شاید زندگیٔ غم سنور جائے
مرے حق میں تمہاری دشمنی بھی دوستی ہوگی
مجھے برباد کر کے بھی نہ ہوگی مہرباں مجھ پر
خبر کیا تھی نگاہ ناز اتنی مطلبی ہوگی
تغافل کا تمہارے اب یہی انجام ہونا ہے
تماشا میری بربادی کا دنیا دیکھتی ہوگی
تصور سے بھی اس کے کانپنے لگتا ہے دل میرا
جدائی کی گھڑی بھی کس قیامت کی گھڑی ہوگی
وہی وقت ہوگا اے ساحرؔ وفا کی کامیابی کا
ہر اک شے میں انہیں محسوس جب میری کمی ہوگی

ساحر بھوپالی