رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا
رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا
روشنی کے قدموں میں اندھیروں کا لہو تھا
گھر میں بیٹھے ایسے ہی خیال آیا
جنوں کی آوارہ سی آنکھوں میں جلال آیا
اک سنسان راستے پہ محو سفر تھا میں
اپنی مستی میں جہاں سے بے خبر تھا میں
دیکھا تو میری راہ میں اک چیز پڑی تھی
شائد کسی راہگیر کے ہاتھوں سے گری تھی
کچھ دیر تو اسے دیکھا میں نے رک کر
بس اٹھانے ہی والا تھا جھک کر
ایسے میں صدا آئی نہ ہاتھ لگانا مجھ کو
برباد ہو جاو گے ہر گز نہ اٹھانا مجھکو
حیراں ہو کہ پوچھا تم چیز کیا ہو
مٹی کا ہو کر پیکر یا معجزہ خدا ہو
جو کچھ بھی ہو آخر بولتے کیوں نہیں ہو
راز اپنی حقیقت کا کھولتے کیوں نہیں ہو
سن کے میرا سوال یوں بول دیا اس نے
راز اپنی حقیقت کا پھر کھول دیا اس نے
کہنے لگا مجھے غور سے دیکھو بہت زرد ہوں میں
نام میرا تو سنا ہو گا درد ہوں میں
ترس کھا کے اسے راستے سے اٹھا لیا میں نے
دل کے مہماں خانے میں اسے بسا لیا میں نے
عجب مہماں ہے جانے کا نام نہیں لیتا
کسی اور مہماں خانے کا نام نہیں لیتا
اسی روز سے قاسم میری چشم تر میں رہتا ہے
میرے دل کو گھر سمجھتا ہے اور گھر میں رہتا ہے
قاسم کاہلوانہ