امل خان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
مگر اُس نگاہ کا ذائقہ مِرے پات پات میں رہ گیا
کِسی گہری نیند کی رسّیوں سے بندھا ہُوا تھا مِرا وجود
مَیں چلا تو آیا سویر تک مگر آدھا رات میں رہ گیا
اِسی کُنجِ تیرہ میں بیٹھ کر یُونہی گُھورتا ہوں چٹان کو
وہ تری تلاش میں کیا نکلتا جو غارِ ذات میں رہ گیا!
تجھے کیا خبر! کہ ہم ایک ساتھ اُسی کے ملبے میں دب چُکے
وہ مکان جو کہِیں مُسترد شُدہ نقشہ جات میں رہ گیا
مجھے کون جار میں رکھ گیا جہاں لمس تک کو ترستا ہوں!
مَیں: نئے زمانے کا سکّہ، کیسے نوادرات میں رہ گیا!
یُونہی بیٹھے بیٹھے ہم ایک رات شکار بن گئے ہجر کا
مَیں کسی کی گھات میں رہ گیا، کوئی میری گھات میں رہ گیا
مِری گاچنی لگی تختیاں تری روشنائی سے بھر گئیں
جو قلم رکھا تھا دوات میں وہ یُونہی دوات میں رہ گیا
کوئی کھود پائے یہ شہرِچشم تو منکشف ہو یہ راز بھی
کہ ترا خزینہ بھی میرے خوابوں کی باقیات میں رہ گیا
مَیں عجب مزاج کا شعر تھا، مِری کیفیت تھی الگ تھلگ
مجھے شاہکار غزل میں ڈھلنا تھا، فردیات میں رہ گیا
اُسے دُوربینِ تخیّلات سے دیکھتا ہوں مَیں رات بھر
کوئی، کہکشاں سے نِکل کے بھی، مِری کائنات میں رہ گیا

سعید شارق