پیش کردہ کلام
- 01 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
- 02 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے
- 03 وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو
- 04 طعنے
- 05 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے
- 06 خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری
- 07 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے
- 08 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں
- 09 اساں مرشد لوک محبت وچ!
- 10 ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے
- 11 کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے
- 12 کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں
- 13 حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا
- 14 ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
- 15 پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ
- 16 تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں
- 17 خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں
- 18 اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے
- 19 بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے
- 20 چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا
- 21 شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
- 22 پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
- 23 آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
- 24 میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
- 25 آنسو
- 26 انگوٹھی
- 27 تیری یاد
- 28 دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو
- 29 سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
- 30 کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی
- 31 منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات
- 32 جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
- 33 اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
- 34 مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
- 35 گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے
- 36 تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت
- 37 تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
- 38 بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
- 39 تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
- 40 کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
- 41 گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
- 42 آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
- 43 دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
- 44 یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
- 45 پیار پوجا ہے
- 46 جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی
- 47 ایک تھی عورت
- 48 ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
- 49 بنت لمحات
- 50 مسجد
- 51 دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
- 52 ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
- 53 اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
- 54 گھیر کے بے کسی نے مارا
- 55 جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
- 56 صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم (ردیف .. ا)
- 57 یہ دنیا
- 58 شام کا پہلا تارا
- 59 سنا ہے
- 60 تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
- 61 عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا
- 62 برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں
- 63 دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
- 64 روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
- 65 خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
- 66 جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
- 67 ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
- 68 ہَوا بُرد
- 69 وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے
- 70 وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
- 71 گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
- 72 منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا
- 73 ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
- 74 ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
- 75 کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
- 76 اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا
- 77 مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
- 78 یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
- 79 کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا
- 80 اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز
- 81 تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
- 82 ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
- 83 سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
- 84 قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
- 85 رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
- 86 وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو
- 87 اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
- 88 خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے
- 89 کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے
- 90 تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
- 91 عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
- 92 اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی
- 93 سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر
- 94 مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی
- 95 جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
- 96 پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
- 97 نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
- 98 مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
- 99 فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
- 100 جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
- 101 آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے
- 102 اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
- 103 اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا
- 104 دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
- 105 لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
- 106 وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے
- 107 کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا
- 108 خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
- 109 ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
- 110 ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن
- 111 اتنا معلوم ہے!
- 112 خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
- 113 نئی محفل میں پہلی شناسائی
- 114 غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
- 115 عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
- 116 ایک جیسا مکالمہ
- 117 دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
- 118 بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....
- 119 پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
- 120 اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
- 121 وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں
- 122 وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
- 123 لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
- 124 عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
- 125 سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
- 126 آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی
- 127 عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا
- 128 کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
- 129 آنکھیں
- 130 معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
- 131 ایک دوست کی خوش مذاقی پر
- 132 رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
- 133 ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
- 134 ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
- 135 یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں