search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
امل خان
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
(13 فروری 2026)
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی
(13 فروری 2026)
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
(12 فروری 2026)
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
(12 فروری 2026)
آنسو
(11 فروری 2026)
انگوٹھی
(11 فروری 2026)
تیری یاد
(10 فروری 2026)
دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو
(10 فروری 2026)
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
(10 فروری 2026)
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی
(10 فروری 2026)
منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات
(08 فروری 2026)
جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
(08 فروری 2026)
اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
(05 فروری 2026)
مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
(05 فروری 2026)
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے
(04 فروری 2026)
تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت
(04 فروری 2026)
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
(04 فروری 2026)
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
(02 فروری 2026)
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
(02 فروری 2026)
کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
(01 فروری 2026)
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
(01 فروری 2026)
آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
(01 فروری 2026)
دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
(31 جنوری 2026)
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
(31 جنوری 2026)
پیار پوجا ہے
(30 جنوری 2026)
جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی
(29 جنوری 2026)
ایک تھی عورت
(29 جنوری 2026)
ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
(28 جنوری 2026)
بنت لمحات
(27 جنوری 2026)
مسجد
(27 جنوری 2026)
دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
(26 جنوری 2026)
ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
(26 جنوری 2026)
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
(25 جنوری 2026)
گھیر کے بے کسی نے مارا
(25 جنوری 2026)
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
(25 جنوری 2026)
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم (ردیف .. ا)
(24 جنوری 2026)
یہ دنیا
(24 جنوری 2026)
شام کا پہلا تارا
(23 جنوری 2026)
سنا ہے
(23 جنوری 2026)
تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
(23 جنوری 2026)
عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا
(22 جنوری 2026)
برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں
(22 جنوری 2026)
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
(21 جنوری 2026)
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
(21 جنوری 2026)
خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
(21 جنوری 2026)
جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
(20 جنوری 2026)
ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
(20 جنوری 2026)
ہَوا بُرد
(20 جنوری 2026)
وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے
(19 جنوری 2026)
وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
(19 جنوری 2026)
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
(18 جنوری 2026)
منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا
(18 جنوری 2026)
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
(18 جنوری 2026)
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
(17 جنوری 2026)
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
(17 جنوری 2026)
اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا
(17 جنوری 2026)
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
(15 جنوری 2026)
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
(15 جنوری 2026)
کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا
(14 جنوری 2026)
اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز
(14 جنوری 2026)
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
(13 جنوری 2026)
ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
(13 جنوری 2026)
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
(12 جنوری 2026)
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
(12 جنوری 2026)
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
(11 جنوری 2026)
وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو
(11 جنوری 2026)
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
(09 جنوری 2026)
خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے
(09 جنوری 2026)
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے
(08 جنوری 2026)
تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
(08 جنوری 2026)
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
(07 جنوری 2026)
اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کی
(07 جنوری 2026)
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر
(07 جنوری 2026)
مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی
(07 جنوری 2026)
جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
(06 جنوری 2026)
پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
(06 جنوری 2026)
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
(06 جنوری 2026)
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
(05 جنوری 2026)
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
(05 جنوری 2026)
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
(02 جنوری 2026)
آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے
(02 جنوری 2026)
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
(01 جنوری 2026)
اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا
(01 جنوری 2026)
دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
(30 دسمبر 2025)
لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
(30 دسمبر 2025)
وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے
(30 دسمبر 2025)
کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا
(29 دسمبر 2025)
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
(28 دسمبر 2025)
ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
(28 دسمبر 2025)
ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن
(28 دسمبر 2025)
اتنا معلوم ہے!
(26 دسمبر 2025)
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
(26 دسمبر 2025)
نئی محفل میں پہلی شناسائی
(26 دسمبر 2025)
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
(26 دسمبر 2025)
عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
(25 دسمبر 2025)
ایک جیسا مکالمہ
(25 دسمبر 2025)
دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
(25 دسمبر 2025)
بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....
(25 دسمبر 2025)
وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
(18 دسمبر 2025)
لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
(18 دسمبر 2025)
عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
(17 دسمبر 2025)
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
(17 دسمبر 2025)
آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی
(16 دسمبر 2025)
عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا
(16 دسمبر 2025)
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
(15 دسمبر 2025)
آنکھیں
(15 دسمبر 2025)
معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
(15 دسمبر 2025)
ایک دوست کی خوش مذاقی پر
(14 دسمبر 2025)
رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
(14 دسمبر 2025)
ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
(14 دسمبر 2025)
ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
(12 دسمبر 2025)
یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں
(12 دسمبر 2025)