ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
نشاں کیسا کہ ہستی کا گماں باقی نہیں رہتا
محبت میں نظام جسم و جاں باقی نہیں رہتا
یہ وہ منزل ہے جس میں کارواں باقی نہیں رہتا
کہیں صیاد کیا ہم اس چمن کے رہنے والے ہیں
بہاروں میں گلستاں تک جہاں باقی نہیں رہتا
مٹا دے اپنی ہستی امتحاں گاہ محبت میں
کہ اس کے باد کوئی امتحاں باقی نہیں رہتا
تجلی تیری جب ہوتی ہے محو جلوہ آرائی
تو پھر جلووں سے کوئی آستاں باقی نہیں رہتا
وہاں پہنچا دیا سوز غم پنہاں نے اب ہم کو
کہ غم منجملۂ عمر رواں باقی نہیں رہتا
اب اس منزل پہ لے آئی ہے میری بے خودی مجھ کو
جہاں فرق مکاں و لا مکاں باقی نہیں رہتا
مرے آئینۂ دل کی حقیقت پوچھنے والے
یہاں آ کر کوئی راز نہاں باقی نہیں رہتا
وہ دنیا ہو لحد ہو یا قیامت ہو کہ محشر ہو
غم اعمال کا رونا کہاں باقی نہیں رہتا
صدا آتی ہے راتوں کو یہی گور غریباں سے
چراغ سرحد منزل یہاں باقی نہیں رہتا
بھلا دیتی ہے تیری یاد یاد ماسوا دل سے
ترے ہوتے خیال دیگراں باقی نہیں رہتا
جبین شوق جھک بھی جا کہاں کا پاس رسوائی
کہ پھر قرب جبین و آستاں باقی نہیں رہتا
مجھے حیرت انہیں شکوہ جبین شوق سرگرداں
کہ سنگ در پہ سجدوں کا نشاں باقی نہیں رہتا
جہاں انسانیت کا خون ہو جذبات کی رو میں
وہاں معیار تخلیق جہاں باقی نہیں رہتا
شہیدان محبت کی عجب دنیا ہے اے افقرؔ
جہاں ذکر حیات جاوداں باقی نہیں رہتا
افقر موہانی