واصف سیفی

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

کیا لگا تھا

کیا لگا تھا
کہ خود کو مجھ میں نچوڑ دوگے
پھر ہم سے پوچھو گے غم ہمارے
جب دل بھرے گا تو چھوڑ دو گے
بتاؤ!!! جاناں یہی لگا تھا
یہ بے ضرر سا جو ایک لڑکا
عاجزی کا لباس اوڑھے
غلیظ لوگوں میں جی رہا ہے
بہا کہ آنسو عتاب عبرت
بہت تسلی سے پی رہا ہے
بہت ہی چپ ہے
تو چپ رہے گا
کہ روشنی بھی یہ کہ رہی تھی
کہ اب اندھیرا بھی گپ رہے گا
تو ایسی سوچیں غلام دل سے نکال پھینکو
اگر اندھیرا یہاں پہ آئے
تو اس پہ میری وہ شال پھینکو
وہ شال جاناں !!!!
جو ہم نے سورج سے
تیری خاطر ادھار لی تھی
کہ جس میں ہم نے خزاں چھپا کہ
تمھاری خاطر بہار لی تھی
اگر وہ پھر بھی نہ پیچھا چھوڑے
تو اس کو کہنا
کہ مجھ کو ساقی نے یہ کہا تھا
کہ روشنی کی نہ فکر کرنا
کسی سے میرا نہ ذکر کرنا
میں اپنے حصے کی سارے جگنو
تمھارے قدموں میں ڈال دوں گا
کہ اب اندھیرے نے تجھ کو دیکھا
تو اسکی آنکھیں نکال دوں گا
مگر زمانہ بدل چکا ہے
تمام چیزیں جو مفت لی تھی
اب تم ان کا حصاب لکھو
کہ میں نے لکھا تھا ایک صفحہ
تم اس کے بدلے کتاب لکھو
لکھو کہ کیسے شراب چھوڑی
لکھو کہ کیسے جناب چھوڑی
لکھو کہ کیسے وہ وعدے توڑے
لکھو کہ کیسے یوں اپنے چھوڑے
لکھو کہ کیسے چلا تھا ساقی
لکھو کہ کیسے جلا تھا ساقی
لکھو کہ کیسے وہ چپ رہا تھا
لکھو اندھیرا بھی گپ رہا تھا
مگر یہ لکھنے کے واسطے
تمھیں بھی جلنا پڑے گا جاناں
تمھیں بھی میری طرح
جی کی مرنا پڑے گا جاناں
مگر یہ تم سے کبھی بھی لیکن
نہ ہوسکا ہے نہ ہوسکے گا
کہ کوئی بھی اب سچ کا پیچھا
نہ کر رہا ہے نہ کرسکے گا
تو چھوڑو جاناں سوال سارے
فقت تم اپنا جواب سن لو
میرا سارا عذاب سن لو
کون ہوں میں !!!!!!!
اگر تم پوچھو گے میرا شجرہ
تو غزنوی کا عون ہوں میں
کبھی جو لٹکا تھا سولی پر وہ
انل حق جنون ہوں میں
کبھی میں سب کو جواب دے دوں
کبھی سوال بدون ہوں میں
کبھی میں چیخوں بھڑک بھڑک کر
کبھی سراپہ سکون ہوں میں
کبھی میں جھیلوں زمانے بھر کو
کبھی شکستہ ستون ہوں میں
کبھی میں پڑھ لوں نمازیں ساری
کبھی فرائض کا خون ہوں میں
اگر صفائی نہیں یہ کافی
ابھی بھی شک ہے کہ کون ہوں میں
تو فارہہ بھی یہ کہ رہی ہے
نئے زمانے کا جون ہوں میں
سن لیا نہ کہ کون ہوں میں
جون تھا وہ
جون ہوں میں !!!!!!!!!

نا معلوم