۸ جنوری (۱۹۵۳)
۸ جنوری (۱۹۵۳)
( کراچی طلباء پہ فائرنگ سے متاثر ہو کر )
سالِ نو لے ہی رہا تھا سالِ کہنہ سے خراج
دفعتا برہم ہوا، بندہ نوازوں کا مزاج
دامنِ انسانیت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے
پرچمِ امن و سکوں کے پرزے پرزے کر دیئے
ہونٹ کھلنے بھی نہ پاۓ تھے براۓ عرضِ حال
اٹھنے بھی پایا نہ تھا پوری طرح دستِ سوال
گولیاں چلنے لگیں معصوم زد میں آگئے
نونہالانِ وطن جامِ شہادت پا گئے
ماں کی ممتا خون میں تحلیل ہو کر بہہ گئی
باپ کی شفقت سرِ بازار لٹ کر رہ گئی
دیکھ کر بیداد بوڑھا آسماں تھرّا گیا
ظلم شرمایا جفاؤں کو پسینہ آگیا
علم کے بیوپاریوں ، نکتہ رسو ، دانش وروں
عارضی فرماں رواؤں ، محلاتی رہبروں
کیا سمجھتے ہو ستارے تیرگی میں کھو گئے
سر پھرے معصوم باغی نیند گہری سو گئے
چند تنکوں سے بھلا طوفان رکتا ہے کہیں
عزم مستحکم بروۓ جھکتا ہے کہیں
جو قدم راہ طلب میں بڑھ گئے رکتے نہیں
کٹ تو سکتے ہیں مگر جادہ بدل سکتے نہیں
تندخو سیلِ رواں کو روک سکتا ہے کوئی
راہردان راہ حق کو ٹوک سکتا ہے کوئی
کس میں ہمت ہے کہ غنچوں کی نمو کو روک دے
قید کر لے نکہتیں اور رنگ و بو کو روک دے
پھول جو پاۓ تکبر سے مسل ڈالے گئے
صفحہ تاریخ کا عنوان وہ بن کر رہے
شاخ اک کاٹی تو اور اگتی ہیں وہیں
روندنے سے سبزۂ شاداب مرجھایا نہیں
سرخی خونِ شہیداںِ رائیگاں جاتی نہیں
رنگ لاتی ہے تمنا گھٹ کے مرجاتی نہیں
محسن بھوپالی