آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!
آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!
نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے
دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور، بازگشت
کیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ کے!
ہوتا نہیں تعیّنِ جاگیرِ ہست و نیست
ہم خاک ہو گئے یہ زمیں ماپ ماپ کے
اب کاٹنے کو دوڑ رہا ہے سگِ فنا
آ تو گیا ہوں وقت کی دیوار ٹاپ کے
یُوں بھی دُھواں ہے تجربہ گاہِ وجود میں
کرتا ہوں تجربے غم و دِل کے ملاپ کے
دُنیا تھی مُنہمک كَفَن و دفن میں، اُدھر
بیٹے میں سانس لینے لگے زخم باپ کے
رہتا تھا دِل کو تنگیء ملبُوس کا گِلہ
سِلوا دیے ہیں کپڑے اُداسی کے ناپ کے
سعید شارق