کریسنٹ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جرمِ وعدہ

مِرے بچّے ہزاروں بار میں نے تم کو اک قصہ سنایا ہے
کبھی لوری کے آنچل میں
کبھی باتوں کے جھولے میں تمھیں بہلا کے لپٹا کے سُلایا ہے
تمہارے گرم رخساروں کو اپنے سرد ہونٹوں سے چھوا ہے
تم سے اک وعدہ کیا ہے
مِرے بچّے
کہانی میں تھکی ہاری جو لڑکی تھی
وہ شہزادی نہیں میں تھی
وہ جادو کا محل جو اک پل میں جل کے صحرا ہو گیا تھا وہ مِرا گھر تھا
جہاں آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی تھیں
خواب میرے تھے
وہ جن میں گھِر گئی تھی
غیر کیا سب میرے اپنے تھے
جہاں اسکا فسانہ تھا
وہیں میری حقیقت تھی
جہاں وہ مڑ کے پتھر ہو گئی
میری محبت تھی
ہزاروں آگ کے میدان تھے
بارش لہو کی تھی
یہ سب کچھ مجھ پہ گزری تھی
مِرے بچّے کہانی میں
تھکی ہاری جو لڑکی تھی
وہ شہزادی نہیں میں تھی
جہاں قصے کا آخر تھا
مِرے بچّے !
وہاں تم تھے
خوشی کی زندگانی کی علامت
تمناؤں کا اک خوابِ مسلسل
رفاقت کی صداقت کی ضمانت
جہاں پر صرف خوش انجام تھا ، ہر ایک افسانہ
مرے بچّے ! وہاں تم تھے ، وہاں تم تھے
مری آنکھیں کسی پیمان کے زخموں سے بوجھل تھیں
تمہارا عکس ان زخموں کا مرہم تھا
ادھورے عہد کے رعشے سے میرے ہاتھ لرزاں تھے
تمہارا ساتھ اک تسکینِ پیہم تھا
مجھے اقرار تھا
میں خاک ہوں
تم حسن و زیبائش
مجھے احساس تھا
میں خوف ہوں
تم امن و آسائش
میں ماضی ہوں
مگر تم صورتِ فردا فروزاں ہو
میں مشکل ہوں
مگر تم صورتِ امید آساں ہو
مِرے بچّے !
مرا احساس اور اقرار دونوں آج مجرم ہیں
میں اپنا سر جھکاۓ اپنی فردِ جرم سنتی ہوں
بجاۓ گل رداۓِ آرزو سے خار چنتی ہوں
تمھیں معلوم ہے
الزام کیا ہے
وہی وعدہ جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے
تحفظ کا ، تمہاری آبرو کا ، سر بلندی کا

زہرا نگاہ