کریسنٹ

کریسنٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ

رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارہ کوئی دل کے کھیل دیکھے کہ محبتوں کی بازی وہ قدم قدم پہ جیتے میں قدم قدم پہ ہارا یہ ہماری بد نصیبی جو نہیں تو اور کیا ہے کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکا ہمارا پڑے جب غموں سے پالے رہے مٹ کے مٹنے والے جسے موت نے نہ پوچھا اسے زندگی نے مارا

شاعر: شکیل بدیوانی — پیشکش: کریسنٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس