سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے
سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے
کھانے لگا ہے وقت مجھے نوچ نوچ کے
تِتلی نہیں ہے تُو! کہ تُجھے زِندہ چھوڑ دیں
چل! چل! حقوق ہوتے نہیں کاکروچ کے!
یکدم کسی کی یاد نے تھاما ہے میرا ہاتھ
اب کیسے کیسے فائدے ہوتے ہیں موچ کے!
جس کی بریک فیل ہے، ٹائر گھِسے پِٹے
ہم سب مسافران ہیں اِک ایسی کوچ کے
اِک شب جھپٹ پڑی تھی اچانک، فسردگی
اب تک نشان ہیں مِرے دل پر کھروچ کے
رانجھا ہو چاہے پنّوں ہو، سانجھا ہے سب کا درد
پنجابی کے بھی دُکھ ہیں، جو دُکھ ہیں بلوچ کے
جی چاہتا ہے بھاگتا جاؤں کسی بھی سمت
کب تک قدم اُٹھائے کوئی، سوچ سوچ کے!
پکّی سڑک سے دُور، کسی کچّے گھر کے پاس
اِک رِکشہ خواب دیکھتا ہے کارپوچ کے
سعید شارق