کریسنٹ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں
ہر گھڑی دل میں تیری الفت کے دھیمے دھیمے چراغ جلتے ہیں
جب سے تو نے نگاہ پھیری ہے دن ہے سونا تو رات اندھیری ہے
چاند بھی اب نظر نہیں آتا اب ستارے بھی کم نکلتے ہیں
لٹ گئی وہ بہار کی محفل چھٹ گئی ہم سے پیار کی منزل
زندگی کی اداس راہوں میں تیری یادوں کے ساتھ چلتے ہیں
تجھ کو پا کر ہمیں بہار ملی تجھ سے چھٹ کر مگر یہ بات کھلی
باغباں ہی چمن کے پھولوں کو اپنے پیروں سے خود مسلتے ہیں
کیا کہیں تجھ سے کیوں ہوئی دوری ہم سمجھتے ہیں اپنی مجبوری
تجھ کو معلوم کیا کہ تیرے لیے دل کے غم آنسوؤں میں ڈھلتے ہیں

شکیل بدیوانی