کریسنٹ

کریسنٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے

ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے کہیں یہ وہ تو نہیں ؟ چُھپ کے سینے میں کوئی جیسے صدا دیتا ہے شام سے پہلے دیا دل کا جلا دیتا ہے ہے اسی کی یہ صدا ہے اسی کی یہ ادا کہیں یہ وہ تو نہیں ؟ شکل پھرتی ہے نگاہوں میں وہی پیاری سی میری نس نس میں مچلنے لگی چنگاری سی چُھو گئی جسم مرا کس کے دامن کی ہوا کہیں یہ وہ تو نہیں ؟

شاعر: کیفی اعظمی — پیشکش: کریسنٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس