کریسنٹ

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

زندگی ختم ہوئی

زندگی ختم ہوئی
جب تک اس دل میں رہا جوشِ جنوں
تب تک اس دل کو میسر تھی حیات
اب نہیں ، آہ نہیں ہے وہ بات
زندگی ختم ہوئی ۔
اک دن تھا کہ محبت تھی مرے دل کے قریں
تازگی ، ایسی تھی اک پھول تھا دل
چاندنی رات کا نقشہ تھا تمام
میں تھا اور ساتھ کوئی اور بھی تھا
صحنِ گلشن میں تھا مستانہ خرام
مری ہمدم کا تھا پیکر نغمہ
اور میں خود بھی تھا یکسر نغمہ
آنکھ بھی نغمہ ، منظر نغمہ
کیسے لمحے تھے کہ حاصل مجھے گویائی تھی
لیکن احساس کو حاصل نہیں اب گویائی
کیوں چلی بادِ فنا ؟
مٹ گیا عشق کا پہلا نغمہ
نکہتِ عشرتِ دل آوارہ
اب نہیں ، آہ ! وہ منظر باقی
تیر و تار ہے ، تاریک ہے رات
اب نہیں ، آہ !نہیں ہے وہ بات
زندگی ختم ہوئی ۔
یاس نے
یاس نے آکے مرے دل کو کیا ہے زخمی
چھین لی ، چھین ہی لی یاس نے راحت دل کی ۔
کس طرح لَوٹ کے اب آۓ گی حالت پہلی
تیرہ و تاریک ہے تاریک ہے رات
زندگی ختم ہوئی ۔

میراجی