اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
کِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں
دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کی
ذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں
یقیناً اُن کی سوچوں پر بڑھاپہ چھا چکا ہو گا
اُلجھ کر رہ گئے جو لوگ ماضی کے حوالوں میں
بھڑکتے تھے کبھی جن میں گلابی آگ کے شعلے
بس اب تو راکھ باقی رہ گئی ہے ان پیالوں میں
جنھیں ہم دیکھ کر مسجد کا رستہ بھُول جاتے تھے
خدا معلوم ہوں گے وہ صنم اب کن شوالوں میں
وہ جب بھی رُو برُو آیا، نیا چہرہ کوئی لایا
اِک ایسا شخص بھی شامل تھا اپنے ملنے والوں میں
ہمیشہ گفتگو کر کے وہ شرمندہ ہُوا مجھ سے
ملے اس کو سدا میرے جواب اپنے سوالوں میں
کھُلی آنکھوں قتیلؔ اس کو بھلا کب دیکھ سکتا ہُوں
ملاقات اس سے اب ہوتی ہے خوابوں میں خیالوں میں
قتیل شفائی