افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر

ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
کہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر
مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوں
مگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر
اِسے خبر نہیں اندر سے رات ہوں اب تک
چراغ خُوش ہے مِری روشنی بڑھانے پر
ذرا سی دیر چُھپا تھا مَیں کوہِ رفتہ میں
کہ اک چٹان گِری غار کے دہانے پر
پڑا ہوں شیشۂ ہستی پہ گرد کے مانند
نہ جانے کیا نظر آئے مجھے ہٹانے پر!
کھلونا ٹُوٹنے والا ہے کھینچا تانی میں
جھگڑ پڑی ہیں مِری آنکھیں نیند آنے پر
نہ جانے کب مَیں ترے باغ سے چلا جاتا!
سو مطمئن ہوں بہت، اپنے پَر کٹانے پر
مَیں رات دن یہی ملبہ ہٹاتا رہتا ہوں
گِرے ہوئے ہیں زمانے مِرے زمانے پر

سعید شارق