افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا

اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
یوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جا
یہی ہے محبت کا دستور اے دل
وہ غم دے تجھے تو دعائیں دئے جا
کبھی وہ نظر جو سمائی تھی دل میں
اسی اک نظر کا سہارا لیے جا
ستائے زمانہ ستم ڈھائے دنیا
مگر تو کسی کی تمنا کئے جا

مجروح سلطانپوری