افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے

بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
چاند سی شکل تری موجب طغیانی ہے
اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماں
کس قدر دیر میں صورت تیری پہچانی ہے
در ودیوار سے قائم تھا بھرم غربت کا
آج بے پردہ مری بے سروسامانی ہے
میں جو مغموم ہوا، دل یہ پکارا باصر
میرے ہوتے تجھے کا ہے کی پریشانے ہے

باصر سلطان کاظمی