افتخار احمد

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

درد کی ہی اساس ہوں میں تو

درد کی ہی اساس ہوں میں تو
کتنی صدیوں کی پیاس ہوں میں تو
زائچے میں بھی میرے لکھا ہے
درد کا اقتباس ہوں میں تو
آپ خوش فہمیوں میں مت رہنا
جانے کس کس کو راس ہوں میں تو
صرف آنکھیں ہی لال ہیں نا بس؟
تم سے زیادہ اداس ہوں میں تو
تم نے زیادہ سمجھ لیا ہے ناں
صرف تھوڑا سا خاص ہوں میں تو

زین شکیل