حیا والی وہ با کردار آنکھیں
حیا والی وہ با کردار آنکھیں
سدا روشن رہیں سردار آنکھیں
ہوئی محسوس یوں پلکوں کی جنبش
کہ جیسے ہوں پسِ دیوار آنکھیں
یہ دیکھیں ناں، یہ دنیا دار مل کر
دکھاتے ہیں مجھے، سرکار ! آنکھیں
اب اُن آنکھوں سے نیندیں جھانکتی ہیں
وہ آنکھیں، ہائے وہ بیدار آنکھیں
زین شکیل